ہم سب نے کبھی نہ کبھی آسمان میں ایک جیٹ طیارے کو چمکتے ہوئے دیکھا ہوگا، اور سوچا ہوگا کہ اسے اڑانے والا شخص کتنا دلیر ہوگا۔ وہاں اوپر، بادلوں کے درمیان، جہاں زمین کے سارے مسائل چھوٹے نظر آتے ہیں، وہاں ایک اور ہی دنیا ہے۔ مجھے تو ہمیشہ سے ہی ان شاہینوں سے ملنے کی خواہش رہی ہے جو ہمارے ملک کا دفاع کرتے ہیں اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہمیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ آج کے اس تیزی سے بدلتے دور میں، جب ٹیکنالوجی اور دفاعی چیلنجز ہر روز نئی شکل اختیار کر رہے ہیں، ان ہوابازوں کی تربیت اور بصیرت کس قدر اہمیت کی حامل ہے، یہ جاننا ہر کسی کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گا۔ تو بس، تیار ہو جائیں ایک ایسے انٹرویو کے لیے جو آپ کو آسمان کے سپاہیوں کی زندگی کی گہرائیوں میں لے جائے گا۔ آئیے ان تمام دلچسپ پہلوؤں کو تفصیل سے جانتے ہیں!
آسمان کے محافظ: ایک جھلک ان کی دنیا میں

پہلا قدم: ایئر فورس میں شمولیت کا سفر
ہم سب بچپن میں کبھی نہ کبھی آسمان کی طرف دیکھ کر سوچتے تھے کہ کاش ہم بھی پرندوں کی طرح اڑ سکیں۔ لیکن کچھ لوگ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی ہمت کرتے ہیں۔ ایئر فورس میں شمولیت کا سفر کسی بھی عام سفر سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک نوکری نہیں، بلکہ ایک طرز زندگی کا انتخاب ہے جہاں آپ کو اپنی جوانی، اپنے خواب، اور یہاں تک کہ اپنی جان بھی وطن کے لیے وقف کرنی پڑتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب میرا ایک دوست ایئر فورس میں شامل ہونے کے لیے ٹیسٹ دے رہا تھا، تو اس نے مجھے بتایا تھا کہ پہلے ہی مرحلے میں ہزاروں نوجوانوں میں سے صرف چند ہی منتخب ہوتے ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ ذہانت کے ساتھ ساتھ جسمانی فٹنس، ذہنی مضبوطی اور حب الوطنی کا جذبہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ وہ بنیادی ستون ہیں جن پر ایک پائلٹ کی شخصیت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اس کے بعد کئی سال کی سخت تربیت ہوتی ہے، جہاں انہیں نہ صرف طیارے اڑانا سکھایا جاتا ہے بلکہ فیصلے کرنے، دباؤ میں کام کرنے اور ہر مشکل صورتحال سے نمٹنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اس پورے عمل میں ہر لمحہ ایک نیا امتحان ہوتا ہے، جو انہیں ملک کے بہترین محافظ بناتا ہے۔
ایک عام دن کی جھلک
آپ نے شاید سوچا ہوگا کہ ایک پائلٹ کی زندگی صرف طیارے اڑانے اور آسمان میں ہیروپنے سے بھری ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ایک پائلٹ کا ایک عام دن صبح سویرے شروع ہوتا ہے، جب ہم میں سے اکثر ابھی بستر کی گرمائش میں ہوتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے جسمانی ورزش کرتے ہیں، اپنی صحت اور فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں۔ اس کے بعد بریفنگ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جہاں انہیں دن کے مشنز، موسم کی صورتحال، اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ میں نے کئی پائلٹس کو دیکھا ہے جو اپنی ہر پرواز سے پہلے ہر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کا جائزہ لیتے ہیں۔ طیارے کا معائنہ، ایندھن کا حساب، راستہ کی منصوبہ بندی، ہر چیز کو کئی بار چیک کیا جاتا ہے تاکہ ذرا سی بھی غلطی کی گنجائش نہ رہے۔ ان کا دن صرف پرواز پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بعد ڈی بریفنگ ہوتی ہے جہاں پرواز کے دوران ہونے والی ہر کارروائی کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ آئندہ کے لیے سیکھا جا سکے۔ یہ ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے، جہاں ہر پرواز انہیں مزید بہتر بناتی ہے۔ میں خود ان کی اس محنت اور لگن کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں۔
پرواز سے پہلے کی تیاری: جسم و ذہن کی آزمائش
سخت جسمانی تربیت کی اہمیت
اگر آپ کو لگتا ہے کہ پائلٹ بننے کے لیے صرف کتابی علم کافی ہے تو آپ غلط ہیں۔ میں نے خود ان پائلٹوں کی ٹریننگ کا کچھ حصہ دیکھا ہے، اور یقین کریں یہ کسی بھی اولمپک کھلاڑی سے کم نہیں ہوتی۔ انہیں ایسی سخت جسمانی تربیت سے گزرنا پڑتا ہے جو ان کے جسم کو ناقابل یقین حد تک مضبوط بناتی ہے۔ بھاگنا، سوئمنگ، ویٹ لفٹنگ، اور کئی قسم کی مہارت کی مشقیں ان کے روزمرہ کے معمول کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ طیارے اڑاتے وقت جسم پر بہت زیادہ دباؤ پڑتا ہے، خاص طور پر تیز رفتار موڑ لیتے وقت اور زیادہ بلندی پر۔ ایسے حالات میں جسم کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ پائلٹ ہر قسم کے دباؤ کو برداشت کر سکے۔ انہیں صرف اپنے طیارے کو ہی نہیں سنبھالنا ہوتا بلکہ خود کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے تاکہ وہ درست فیصلے کر سکیں۔ ان کی جسمانی فٹنس کا ہر چند ماہ بعد باقاعدہ معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ہمیشہ بہترین حالت میں ہیں۔ میری تو انہیں دیکھ کر بس یہ ہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ انہیں ہمیشہ سلامت رکھے۔
نفسیاتی دباؤ اور اس کا سامنا
جسمانی مضبوطی کے ساتھ ساتھ ایک پائلٹ کے لیے ذہنی مضبوطی بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔ آپ تصور کریں کہ آپ ہزاروں فٹ کی بلندی پر ایک مشین میں بیٹھے ہیں اور لمحوں میں فیصلے کرنے ہیں۔ جنگ کی صورتحال ہو یا کوئی ہنگامی صورتحال، انہیں ہر حال میں پرسکون رہنا ہوتا ہے اور درست فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ میں نے ایک پائلٹ سے سنا تھا کہ انہیں نفسیاتی طور پر اس قدر مضبوط بنایا جاتا ہے کہ شدید دباؤ میں بھی ان کا ہاتھ نہ کانپے اور ان کا ذہن صاف رہے۔ اس کے لیے انہیں باقاعدہ سائیکلوجیکل سیشنز سے گزارا جاتا ہے اور انہیں مختلف دباؤ والی صورتحال میں پریکٹس کروائی جاتی ہے۔ یہ صرف جنگی پائلٹس کی بات نہیں، کمرشل پائلٹس بھی ذہنی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ آسمان میں غیر متوقع موسم، تکنیکی خرابیاں، اور مسافروں کی حفاظت، یہ سب ان کے ذہنی دباؤ کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی تربیت میں ذہنی صحت اور دباؤ سے نمٹنے کی تکنیک پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ عام لوگوں سے اتنے منفرد ہوتے ہیں۔
ہوا میں چیلنجز: ہر لمحہ ایک نئی کہانی
ہنگامی حالات میں فیصلے کی رفتار
مجھے ایک پائلٹ نے بتایا تھا کہ جب آپ ہوا میں ہوتے ہیں تو ہر لمحہ اہم ہوتا ہے۔ خاص طور پر ہنگامی حالات میں، جب آپ کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے چند سیکنڈز ہوتے ہیں۔ طیارے میں کوئی تکنیکی خرابی آ جائے، یا موسم اچانک خراب ہو جائے، تو انہیں فوری اور درست فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ یہ فیصلے ہزاروں جانوں یا لاکھوں روپے کے طیارے کی حفاظت سے متعلق ہوتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ وہ سمیلیٹر میں کس طرح ہنگامی صورتحال میں مشق کرتے ہیں۔ ان کی ٹریننگ میں انہیں ایسی بے شمار صورتحال سے گزارا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ان کا دماغ ایک کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے جو سیکنڈز میں تمام ممکنہ حلوں کا جائزہ لے کر بہترین حل کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ مہارت انہیں سالوں کی سخت مشق اور تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت میں، میں سمجھتا ہوں کہ ایک پائلٹ کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سب کچھ غلط ہو رہا ہو۔
جدید طیاروں کی مہارت
آج کل کے جیٹ طیارے کوئی عام مشینیں نہیں ہیں۔ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا شاہکار ہیں جو انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں۔ انہیں اڑانے کے لیے صرف مہارت ہی نہیں بلکہ ان طیاروں کے ہر چھوٹے بڑے نظام کا گہرا علم بھی ضروری ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے پائلٹس کس طرح ہر نئے طیارے کی آمد پر اس کی خصوصیات، اس کے ہتھیاروں اور اس کے ایویونکس سسٹم کو سمجھتے ہیں۔ انہیں کئی مہینے صرف نئے طیارے کی ٹریننگ پر لگانے پڑتے ہیں تاکہ وہ اس پر مکمل عبور حاصل کر سکیں۔ یہ ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ ہر سال نئی ٹیکنالوجی متعارف ہوتی ہے اور پائلٹس کو اس کے ساتھ اپ ڈیٹ رہنا پڑتا ہے۔ انہیں نہ صرف طیارے کو اڑانا ہوتا ہے بلکہ اس کے جدید ہتھیاروں کے نظام کو بھی سمجھنا ہوتا ہے تاکہ وہ جنگ کی صورتحال میں اسے مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔ یہ صرف ایک گاڑی چلانا نہیں بلکہ ایک سپر کمپیوٹر کو ہوا میں کنٹرول کرنا ہے۔
دشمن کا سامنا: تجربہ اور حکمت عملی
جب بات دشمن کا سامنا کرنے کی آتی ہے تو وہاں صرف طیارہ یا ٹیکنالوجی ہی کام نہیں آتی بلکہ پائلٹ کا تجربہ اور اس کی حکمت عملی سب سے اہم ہوتی ہے۔ میں نے خود ایک ریٹائرڈ پائلٹ سے سنا تھا کہ جب آپ دشمن کے طیارے کے سامنے ہوتے ہیں تو آپ کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے، لیکن آپ کو پرسکون رہنا ہوتا ہے۔ یہ ایک شطرنج کا کھیل ہوتا ہے جہاں آپ کو اپنے ہر قدم کو سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوتا ہے۔ انہیں ایسی حکمت عملیوں کی تربیت دی جاتی ہے جو انہیں دشمن پر برتری حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ صرف طیارے کی رفتار یا اس کے ہتھیاروں پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ پائلٹ کی ذہانت، اس کے فوری فیصلے، اور اس کے تجربے پر منحصر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجربہ کار پائلٹس کو جنگ میں ایک قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی ہر مشق، ہر پرواز انہیں مزید بہتر بناتی ہے تاکہ وہ ملک کی سرحدوں کا مؤثر طریقے سے دفاع کر سکیں۔
خاندان کی قربانیاں: گھر پر انتظار کا درد
بچوں کی تربیت اور غیر حاضری کا اثر
ہم سب اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں، لیکن ایک پائلٹ کی زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ ان کی زیادہ تر زندگی ٹریننگ، مشنز اور تعیناتیوں میں گزر جاتی ہے۔ میں نے کئی پائلٹس کو دیکھا ہے جو اپنے بچوں کی سالگرہ یا اہم تقریبات میں شامل نہیں ہو پاتے۔ یہ صرف ان کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کے بچوں کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے۔ بچے اپنے والد کی غیر حاضری محسوس کرتے ہیں، لیکن انہیں فخر ہوتا ہے کہ ان کے والد ملک کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ایک پائلٹ کی بیوی نے مجھے بتایا تھا کہ بچوں کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ان کے والد کیوں اکثر گھر پر نہیں ہوتے۔ انہیں یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ والد کا ملک کے لیے کام کتنا اہم ہے۔ اس دوران ماں ہی دونوں والدین کا کردار ادا کرتی ہے، اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ ان کی اس قربانی کو بھی سراہنا چاہیے، کیونکہ گھر کا مضبوط سہارا ہی پائلٹ کو میدان میں حوصلہ دیتا ہے۔
شریک حیات کا حوصلہ
ایک پائلٹ کے لیے اس کی شریک حیات کا حوصلہ اور صبر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ میں نے ایک خاتون سے بات کی تھی جن کے شوہر پائلٹ ہیں، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ انہیں ہر وقت یہ پریشانی رہتی ہے کہ ان کے شوہر بحفاظت واپس آئیں گے۔ یہ ایک ایسا پیشہ ہے جہاں ہر وقت جان کا خطرہ رہتا ہے، اور گھر پر انتظار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ان خواتین کا حوصلہ ناقابل یقین ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہیں بلکہ اپنے شوہر کو ذہنی اور جذباتی سہارا بھی فراہم کرتی ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا شوہر ایک اہم مشن پر ہے اور انہیں ملک کی خدمت کر رہا ہے۔ ان کی دعائیں اور حمایت پائلٹ کے لیے سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ یہ خواتین بھی کسی ہیرو سے کم نہیں۔ ان کی خاموش قربانیاں ہمارے معاشرے کا ایک انمول حصہ ہیں۔
مستقبل کے سپاہی: نئی ٹیکنالوجی اور تربیت

سمیلیٹر ٹریننگ کا بدلتا رجحان
آج کل کی دنیا میں ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور اس کا اثر ایئر فورس کی ٹریننگ پر بھی پڑ رہا ہے۔ مجھے یاد ہے پرانے وقتوں میں زیادہ تر ٹریننگ اصل طیاروں پر ہوتی تھی، جو کہ بہت مہنگی اور خطرناک تھی۔ لیکن اب سمیلیٹر ٹریننگ نے اس میں بہت بڑی تبدیلی لائی ہے۔ جدید سمیلیٹرز اتنے حقیقی ہوتے ہیں کہ ان میں پرواز کرتے وقت پائلٹ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اصل طیارے میں بیٹھا ہو۔ میں نے خود ایک جدید سمیلیٹر میں بیٹھ کر دیکھا ہے کہ یہ کتنے حقیقت پسندانہ ہوتے ہیں۔ اس سے پائلٹس کو بار بار مختلف حالات میں مشق کرنے کا موقع ملتا ہے، جس سے ان کی مہارت میں بہتری آتی ہے اور اصل پرواز کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ یہ سمیلیٹرز نہ صرف مختلف جنگی صورتحال کو تخلیق کر سکتے ہیں بلکہ طیارے میں آنے والی کسی بھی تکنیکی خرابی کو بھی دکھا سکتے ہیں تاکہ پائلٹ اس سے نمٹنے کی مشق کر سکیں۔ یہ ٹریننگ کا ایک انقلابی طریقہ ہے جو ہمارے مستقبل کے پائلٹس کو تیار کر رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا کردار
مصنوعی ذہانت (AI) کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن میں روبوٹس کا خیال آتا ہے، لیکن یہ اب فضائی دفاع میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ میں نے حال ہی میں ایک رپورٹ پڑھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح AI کو جنگی طیاروں میں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پائلٹس کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد مل سکے۔ AI سسٹم پائلٹ کو دشمن کے طیاروں کی پوزیشن، ان کی رفتار، اور ممکنہ حملوں کے بارے میں فوری معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس سے پائلٹ کو بہت کم وقت میں زیادہ مؤثر فیصلے کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ، AI کا استعمال ٹریننگ میں بھی کیا جا رہا ہے تاکہ پائلٹس کی کارکردگی کا بہتر طریقے سے تجزیہ کیا جا سکے اور انہیں ان کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدد دی جا سکے۔ میرا ماننا ہے کہ مستقبل میں AI اور انسانی پائلٹ مل کر کام کریں گے، جس سے فضائی دفاع مزید مضبوط ہو جائے گا۔ یہ ایک دلچسپ پیش رفت ہے جو ہمارے دفاع کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔
ایک پائلٹ کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی
ریٹائرمنٹ کے بعد نئے چیلنجز
جب ایک پائلٹ اپنی پوری زندگی آسمان میں گزارنے کے بعد ریٹائر ہوتا ہے، تو اس کے لیے زمین پر دوبارہ ایڈجسٹ کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ مجھے ایک ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل نے بتایا تھا کہ جب آپ کئی دہائیوں تک ہر صبح یونیفارم میں اٹھتے ہیں اور ایک خاص روٹین پر چلتے ہیں، تو ریٹائرمنٹ کے بعد اچانک وہ سب ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہوتی ہے۔ انہیں نہ صرف ایک نئے معمول کو اپنانا ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں ایک نئی شناخت بھی بنانی ہوتی ہے۔ کئی پائلٹس ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے سول ایوی ایشن میں شامل ہو جاتے ہیں، یا پھر کسی تعلیمی ادارے میں پڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے اندر کی جستجو اور علم کی پیاس کبھی ختم نہیں ہوتی۔ میں نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ کئی ریٹائرڈ پائلٹس اپنی کمیونٹی کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں، اور اپنی تجربے کی روشنی میں نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
تجربے کا استعمال
ایک ریٹائرڈ پائلٹ کا تجربہ ایک انمول خزانہ ہوتا ہے۔ ان کے پاس نہ صرف فلائنگ کا تجربہ ہوتا ہے بلکہ قیادت، منصوبہ بندی، اور دباؤ میں فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ یہ تمام خوبیاں انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بہت قیمتی اثاثہ بناتی ہیں۔ میں نے خود کئی ایسے ریٹائرڈ پائلٹس کو دیکھا ہے جو مختلف کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جہاں وہ اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔ کچھ تو نوجوان پائلٹس کے لیے مینٹور بن جاتے ہیں، انہیں اپنے تجربات سے سکھاتے ہیں اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف نوجوان نسل کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ ان ریٹائرڈ پائلٹس کو بھی اپنی زندگی میں ایک نیا مقصد مل جاتا ہے۔ ان کا تجربہ صرف میدان جنگ کے لیے نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے معاشرے کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔
دفاعی بجٹ اور ہمارے شاہینوں کی ضروریات
جدید طیاروں کی خریداری اور اپ گریڈیشن
آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دفاعی منظرنامے میں، کسی بھی ملک کی فضائیہ کی طاقت کا انحصار اس کے پاس موجود طیاروں کی جدیدیت پر ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب بھی کوئی نیا جنگی طیارہ کسی ملک کے بیڑے میں شامل ہوتا ہے تو اس کی صلاحیتوں پر خوب بحث ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک طیارہ نہیں ہوتا بلکہ ملک کی دفاعی طاقت کا مظہر ہوتا ہے۔ جدید طیاروں کی خریداری اور پرانے طیاروں کو اپ گریڈ کرنا ایک بہت مہنگا عمل ہے۔ اس کے لیے ایک بڑے دفاعی بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے خود کئی ماہرین سے سنا ہے کہ اگر ہم اپنے پائلٹس کو بہترین تربیت دے دیں لیکن ان کے پاس جدید طیارے نہ ہوں تو ان کی صلاحیتوں کا مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اسی لیے حکومتیں ہمیشہ کوشش کرتی ہیں کہ اپنی فضائیہ کو جدید ترین طیاروں اور ہتھیاروں سے لیس کریں۔ یہ ملک کی سلامتی کے لیے ایک ضروری سرمایہ کاری ہوتی ہے۔
تربیت کے اخراجات اور ان کی افادیت
ایک پائلٹ کو تیار کرنے میں کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ اس کی بنیادی ٹریننگ سے لے کر ہر نئے طیارے پر اس کی مہارت تک، یہ ایک طویل اور مہنگا عمل ہوتا ہے۔ میں نے ایک بار ایک تجزیہ پڑھا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک جنگی پائلٹ کی تیاری پر کئی کروڑ پاکستانی روپے خرچ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اخراجات بے فائدہ نہیں ہوتے۔ یہ تربیت انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ ملک کی حفاظت کر سکیں، دشمن کا مقابلہ کر سکیں اور کسی بھی چیلنج کا سامنا کر سکیں۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو ملک کی سلامتی کو یقینی بناتی ہے۔ اگر آپ سوچیں کہ ایک پائلٹ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہمارے لیے کیا کچھ نہیں کرتا، تو یہ اخراجات بالکل بھی زیادہ نہیں لگتے۔ اس تربیت کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہی پائلٹس ہمارے آسمانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ہمیں پرامن زندگی گزارنے کا موقع دیتے ہیں۔
| پائلٹ کی مہارت کا پہلو | تفصیل | اہمیت |
|---|---|---|
| جسمانی فٹنس | سخت ورزش، بہترین جسمانی صحت کا معیار | زیادہ G-فورس اور دباؤ میں کارکردگی کو برقرار رکھنا |
| ذہنی پختگی | دباؤ میں فیصلہ سازی، جذباتی استحکام | ہنگامی حالات اور جنگی ماحول میں درست فیصلے کرنا |
| تکنیکی علم | طیارے کے نظام، ہتھیاروں اور ایویونکس کی سمجھ | جدید طیاروں کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا |
| قیادت اور ٹیم ورک | ساتھیوں کے ساتھ تعاون، مشن کی قیادت | فضائی مشنز میں ہم آہنگی اور کامیابی |
| مواصلات کی مہارت | واضح اور درست مواصلات (Air Traffic Control سے) | محفوظ پرواز اور مشن کی تکمیل |
بات کو سمیٹتے ہوئے
آج ہم نے اپنے آسمان کے محافظوں، ہمارے بہادر پائلٹوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ایک نظر ڈالی۔ مجھے امید ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے کے بعد آپ کو یہ احساس ہوا ہوگا کہ ان کی زندگی صرف جرات اور بہادری سے بھری نہیں، بلکہ یہ قربانی، لگن اور انتھک محنت کا بھی ایک نمونہ ہے۔ یہ لوگ خاموشی سے ہمارے سروں پر سایہ کیے رہتے ہیں تاکہ ہم سکون کی نیند سو سکیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور انہیں ہر مشکل سے بچائے۔ یہ واقعی ہمارے ملک کا فخر ہیں اور ہمیں ان کی بے لوث خدمات کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ اگلی بار جب آپ کسی طیارے کو آسمان میں دیکھیں تو ایک لمحے کے لیے ان کے لیے دعا ضرور کیجیے گا۔
چند کارآمد معلومات
1. پائلٹ بننے کے لیے صرف بہترین ذہانت ہی نہیں بلکہ غیر معمولی جسمانی اور ذہنی مضبوطی بھی ضروری ہے۔ یہ ایک مکمل پیکیج ڈیمانڈ کرتا ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں! انہیں ہر لمحہ چوکنا رہنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
2. ایئر فورس پائلٹس کی تربیت کروڑوں روپے کے اخراجات پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن یہ سرمایہ کاری ملک کی دفاعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ رقم صرف طیارے اڑانے پر ہی نہیں بلکہ ان کی ذہنی اور جسمانی تربیت پر بھی خرچ ہوتی ہے۔
3. جدید سمیلیٹرز نے پائلٹ ٹریننگ کو انقلاب سے دوچار کر دیا ہے، جس سے حقیقی پرواز کے خطرات کم اور مہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب انہیں حقیقی طیارے پر جانے سے پہلے سینکڑوں گھنٹے سمیلیٹر میں گزارنے پڑتے ہیں۔
4. مصنوعی ذہانت (AI) اب جنگی طیاروں میں پائلٹوں کو فوری اور درست فیصلے کرنے میں مدد دے رہی ہے، یہ مستقبل کی جنگ کا حصہ ہے۔ AI کی مدد سے دشمن کی نقل و حرکت کو سمجھنا اور صحیح وقت پر ردعمل دینا آسان ہو گیا ہے۔
5. ایک پائلٹ کا خاندان بھی اس کی طرح ہی قربانیاں دیتا ہے، خاص طور پر شریک حیات اور بچوں کو اپنے پیاروں کی غیر موجودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ خاموش قربانیاں ہمارے معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں۔
اہم نکات کا خلاصہ
آج ہم نے ایک بار پھر یہ جانا کہ ہمارے فضائی محافظ، یعنی پائلٹس، نہ صرف ہنر مند ڈرائیور ہوتے ہیں بلکہ وہ ملک کے سب سے قیمتی اثاثوں میں سے ایک ہیں۔ ان کا ہر دن ایک نئے چیلنج کے ساتھ شروع ہوتا ہے جہاں انہیں نہ صرف طیارے کے پیچیدہ نظام کو سمجھنا ہوتا ہے بلکہ ہر قسم کے نفسیاتی اور جسمانی دباؤ کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ان کی زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے، جہاں ہر پرواز انہیں مزید تجربہ کار بناتی ہے۔ ان کی تربیت، ان کے فیصلے، ان کی بہادری، اور سب سے بڑھ کر ان کی اپنے وطن سے محبت ہی انہیں منفرد بناتی ہے۔ گھر پر ان کے اہل خانہ بھی اتنی ہی قربانی دیتے ہیں جتنا وہ خود دیتے ہیں، اور یہ ان سب کا مشترکہ عزم ہے جو ہمیں محفوظ رکھتا ہے۔ ہم سب کو ان کی بے مثال خدمات کو سراہنا چاہیے اور ہمیشہ ان کی سلامتی کے لیے دعاگو رہنا چاہیے۔ یہ حقیقت میں ہمارے آسمان کے حقیقی ہیرو ہیں جن کی بدولت ہم پرامن فضا میں سانس لیتے ہیں۔ ان کی کہانی صرف ہوائی جہازوں کی نہیں، بلکہ ناقابل شکست ارادوں اور عزم کی کہانی ہے جو ہمیں ہر روز متاثر کرتی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: جنگی پائلٹ بننے کے لیے کیا خصوصیات اور تربیت درکار ہوتی ہے، اور کیا یہ واقعی اتنا ہی مشکل ہے جتنا لگتا ہے؟
ج: مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار پائلٹ بننے کا خواب دیکھا تھا، تو ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ یہ بہت مشکل ہے۔ اور سچ پوچھیں تو یہ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ سب سے پہلے تو آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر بہت مضبوط ہونا پڑتا ہے۔ صرف کتابی علم کافی نہیں، آپ کی نظر تیز ہونی چاہیے، جسمانی طور پر چست ہونا چاہیے، اور سب سے اہم بات، آپ کا دماغ کسی بھی دباؤ میں پرسکون رہنا چاہیے۔ تربیت کے دوران، آپ کو نہ صرف جہاز اڑانا سکھایا جاتا ہے، بلکہ فیصلہ سازی، دباؤ میں کام کرنے، اور ہر لمحہ صورتحال کا جائزہ لینے کی صلاحیت بھی پیدا کی جاتی ہے۔ مجھے اپنی تربیت کے وہ دن یاد ہیں جب ہم گھنٹوں سمیولیٹرز میں گزارتے تھے، ایک چھوٹی سی غلطی بھی بہت کچھ سکھا دیتی تھی۔ یہ صرف جہاز اڑانے کا نہیں، بلکہ اپنے آپ کو ہر حال میں سنبھالنے کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ ہاں، یہ واقعی مشکل ہے، لیکن جب آپ کو “ونگ” (Wings) ملتے ہیں تو ساری محنت وصول ہو جاتی ہے۔ اس لمحے میں جو فخر اور اطمینان ملتا ہے، وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
س: آج کل کے بدلتے ہوئے دفاعی چیلنجز اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایک جنگی پائلٹ کا کردار کیسے تبدیل ہوا ہے؟
ج: وقت کے ساتھ ساتھ ہر شعبے میں تبدیلی آتی ہے، اور فضائی دفاع بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ جب میں نے اپنا سفر شروع کیا تھا، تب اور آج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اب صرف جہاز اڑانا نہیں، بلکہ بہت سے جدید سسٹمز کو سمجھنا اور استعمال کرنا بھی ضروری ہو گیا ہے۔ ڈرونز، سائبر جنگ، اور جدید ریڈار سسٹمز نے ایک پائلٹ کا کردار مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب ہمیں نہ صرف اپنے ارد گرد کی فضا بلکہ زمینی اور سائبر خطرات سے بھی آگاہ رہنا پڑتا ہے۔ میری نظر میں، اب ایک پائلٹ کو “سسٹم مینیجر” بھی ہونا پڑتا ہے، جو صرف لیور اور بٹن نہیں دباتا بلکہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے، حکمت عملی بناتا ہے اور لمحوں میں اہم فیصلے لیتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہم نے پہلی بار جدید ترین فلائٹ سمیولیٹر پر مشق کی تھی، مجھے لگا جیسے میں کوئی ویڈیو گیم نہیں بلکہ ایک حقیقی جنگی منظرنامے میں ہوں۔ یہ ٹیکنالوجی جہاں ایک طرف سہولت دیتی ہے، وہیں دوسری طرف مسلسل سیکھنے اور اپ ڈیٹ رہنے کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔
س: آسمان میں پرواز کرتے ہوئے آپ کو سب سے زیادہ کیا بات متاثر کرتی ہے، اور آپ نوجوانوں کو اس شعبے میں آنے کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج: سچ پوچھیں تو آسمان میں پرواز کرنا ایک ایسی دنیا میں قدم رکھنے کے مترادف ہے جہاں زمین کے سارے مسائل اور پریشانیاں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ وہاں اوپر، بادلوں کے درمیان، آپ کو ایک عجیب سا سکون اور آزادی محسوس ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ جو چیز مجھے متاثر کرتی ہے وہ ہمارے ملک کی حفاظت کا احساس ہے۔ جب آپ آسمان سے نیچے اپنے ملک کو دیکھتے ہیں، اس کی وسیع سرحدوں کو، تو ایک فخر اور ذمہ داری کا احساس دل میں گھر کر جاتا ہے۔ مجھے یہ بھی بہت پسند ہے کہ ہر مشن ایک نیا چیلنج لے کر آتا ہے اور آپ کو اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لانی پڑتی ہیں۔ نوجوانوں کو میرا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ میں جذبہ ہے، ملک کی خدمت کا شوق ہے، اور آپ محنت سے نہیں گھبراتے، تو یہ شعبہ آپ کے لیے بہترین ہے۔ یہ صرف ایک کیریئر نہیں، یہ ایک طرز زندگی ہے جہاں آپ ہر روز کچھ نیا سیکھتے ہیں اور ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کرتے ہیں۔ اگر آپ یہ خواب دیکھتے ہیں، تو ضرور اس کی پیروی کریں؛ یہ آپ کی زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے!





