دوستو، آج کل فضائی دفاع کا میدان ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دلچسپ اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ آسمان کی بلندیوں میں ہماری حفاظت کیسے یقینی بنائی جاتی ہے؟ جدید ٹیکنالوجی نے اس شعبے میں ایسی کمالات دکھائے ہیں کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ میں نے خود اس حوالے سے بہت سی تحقیق کی ہے اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ آج کے دور میں میزائل صرف “لگاؤ اور بھول جاؤ” والی چیز نہیں رہے، بلکہ ان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید سینسرز کا استعمال انہیں مزید مؤثر بنا رہا ہے۔ خاص طور پر، حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ ففتھ جنریشن طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے نئے اور بہتر فضائی میزائلوں کی ضرورت کتنی بڑھ گئی ہے۔ یہ صرف لڑاکا طیاروں کی بات نہیں، بلکہ مستقبل میں ڈرونز اور ہائپرسونک خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی ان میزائلوں کا کردار کلیدی ہوگا۔ مجھے ذاتی طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف ایک ملک کی نہیں بلکہ عالمی امن اور طاقت کے توازن کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔اب اگر بات کریں فضائی میزائلوں کی اقسام کی، تو یہ ایک ایسی دنیا ہے جو اپنی تنوع اور طاقت کی وجہ سے ہمیشہ مجھے متاثر کرتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک میزائل جو دور سے دشمن کو نشانہ بناتا ہے وہ کیسے کام کرتا ہے اور جو قریب سے وار کرتا ہے اس میں کیا فرق ہوتا ہے؟ میرے نزدیک، ان کی اقسام کو سمجھنا نہ صرف دفاعی حکمت عملی کو بہتر بناتا ہے بلکہ ہمیں اپنی فضائیہ کی صلاحیتوں کا بھی گہرا ادراک دیتا ہے۔ میں نے ہمیشہ سوچا کہ کیسے یہ معجزاتی ہتھیار ہمارے ملک کو فضائی خطرات سے بچاتے ہیں۔ آئیے، آج ہم فضائی میزائلوں کی اس حیرت انگیز اور پیچیدہ دنیا میں غوطہ لگاتے ہیں اور ان کی مختلف اقسام اور ان کی خصوصیات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔
ہمارے پیارے دوستو! کیا حال ہیں آپ کے؟ مجھے پوری امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے اور زندگی کے ہر میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہوں گے۔ آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کرنے والے ہیں جو نہ صرف بہت دلچسپ ہے بلکہ ہماری قومی سلامتی اور مستقبل کی جنگی حکمت عملیوں سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے، اور وہ ہے فضائی میزائلوں کی دنیا!
جی ہاں، میں جانتا ہوں کہ یہ ایک ایسا میدان ہے جو اکثر عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے، لیکن مجھے ذاتی طور پر یہ ہمیشہ سے بہت متاثر کرتا آیا ہے۔ جب میں نے اس کی گہرائی میں جھانکنے کی کوشش کی تو احساس ہوا کہ یہ محض لوہے کے ٹکڑے نہیں، بلکہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی، ذہانت اور برق رفتاری کا ایسا حسین امتزاج ہیں جو پلک جھپکتے ہی دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہم اس ٹیکنالوجی کو سمجھ لیں تو ہمیں اپنی افواج کی صلاحیتوں پر مزید فخر محسوس ہوگا۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ میزائل کیسے کام کرتے ہیں، اور ان کی اقسام کیا ہیں؟ تو چلیے، آج ہم انہی فضائی میزائلوں کی گتھیوں کو سلجھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسے یہ “قہرِ آسمانی” ہمارے محافظ بن کر دشمن کو دور بھگاتے ہیں۔ میں نے خود جب اس پر تحقیق کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ ہر میزائل کی اپنی ایک خاصیت اور اپنا ایک کردار ہے۔ کبھی یہ ایک سائنس فکشن فلم کا حصہ لگتے تھے، لیکن اب یہ ہماری حقیقت کا ایک اہم جزو ہیں۔ تو آئیں، ذرا تفصیل سے اس دنیا کی سیر کرتے ہیں۔
میزائلوں کا ارتقاء: روایتی جنگ سے جدید دور تک
فضائی میزائلوں کی کہانی بہت پرانی نہیں ہے، لیکن جتنی بھی ہے، وہ حیرت انگیز تبدیلیوں سے بھری پڑی ہے۔ جب پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں طیاروں کی لڑائیاں ہوتی تھیں تو پائلٹ ایک دوسرے پر گنوں سے فائر کرتے تھے۔ اس وقت کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ہوا میں ہزاروں فٹ کی بلندی پر ایک طیارہ دوسرے کو بغیر دیکھے، کئی کلومیٹر دور سے نشانہ بنا سکے گا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے پہلی بار ایک جنگی طیارے کو قریب سے دیکھا تو اس کے اندر نصب میزائلوں کو دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ یہ صرف ہتھیار نہیں، بلکہ انجینئرنگ کا کمال ہیں۔ ابتدائی میزائل بہت سادہ ہوتے تھے، جو صرف حرارت یا دھوئیں کا پیچھا کرتے تھے، لیکن آج کل تو ان میں مصنوعی ذہانت اور پیچیدہ سنسرز لگے ہوتے ہیں جو انہیں ایک ذہین شکاری بنا دیتے ہیں۔ پاکستان بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہے اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔ ہماری افواج کی جانب سے وقتاً فوقتاً کیے جانے والے میزائل تجربات محض فوجی مشقیں نہیں بلکہ یہ اس بات کا عزم ہیں کہ ہم خطے میں طاقت کا توازن ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے۔
ابتدائی فضائی میزائلوں کی خصوصیات
ابتدا میں فضائی میزائل صرف “فائر اینڈ فارگیٹ” کے اصول پر کام کرتے تھے، یعنی ایک بار ہدف پر داغ دیا تو پھر وہ خود ہی اپنے ہدف کا پیچھا کرتے تھے۔ ان میں انفراریڈ (حرارت کی شناخت) سنسرز لگے ہوتے تھے جو دشمن کے طیارے کے انجن سے نکلنے والی حرارت کو ٹریک کرتے تھے۔ لیکن اس میں ایک مسئلہ تھا، یہ میزائل اکثر سورج کی روشنی یا زمین سے نکلنے والی حرارت سے دھوکہ کھا جاتے تھے۔ مجھے ہمیشہ یہ بات بڑی دلچسپ لگتی تھی کہ کیسے سائنسدانوں نے ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے رات دن کام کیا اور انہیں مزید بہتر بنایا۔ ان میزائلوں کی رینج بھی محدود ہوتی تھی اور انہیں ہدف کے نسبتاً قریب سے فائر کرنا پڑتا تھا۔ ان ابتدائی دنوں میں پائلٹ کی مہارت اور طیارے کی چالاکی سب سے اہم ہوتی تھی، کیونکہ میزائل اتنے قابل اعتماد نہیں ہوتے تھے۔ ان دنوں کی جنگی فلموں میں ہم اکثر دیکھتے تھے کہ پائلٹ کس طرح ایک دوسرے کو ڈاج کرتے اور پھر گنوں سے حملہ کرتے تھے۔ یہ میزائل اس وقت کی ضروریات کے مطابق بہترین تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خطرات کی نوعیت بدلتی گئی اور پھر مزید جدید میزائلوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔
جدید فضائی میزائلوں میں آنے والی تبدیلیاں
آج کے دور کے فضائی میزائل بالکل مختلف ہیں۔ ان میں ریڈار گائیڈنس، جی پی ایس، اور آپٹیکل سنسرز جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے یہ نئے میزائل نہ صرف زیادہ رینج رکھتے ہیں بلکہ انہیں جام کرنا یا ان سے بچنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال ہے، جو میزائل کو خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتی ہے کہ ہدف کو کیسے ٹریک کرنا ہے اور کس وقت حملہ کرنا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میزائل کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنا سکے اور حتیٰ کہ سٹیلتھ طیاروں کو بھی پکڑ سکے۔ پاکستان کے فتح اور ابدالی جیسے میزائل جدید نیویگیشن سسٹم اور اعلیٰ درستگی سے لیس ہیں، جو ہماری دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ 2019 میں پاکستان کی فضائیہ کے ایک “شاہین” نے انڈین جہاز گرائے اور 2025 میں بھی پاکستانی فضائیہ کے “شاہینوں” نے کئی جہاز گرا کر اپنی برتری ثابت کی، جو کہ ان جدید میزائلوں کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ یہ جدید ٹیکنالوجی نہ صرف ہماری دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بناتی ہے بلکہ خطے میں استحکام بھی پیدا کرتی ہے۔
طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل: آسمان کے محافظ
طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائل (Long-Range Air-to-Air Missiles) میرے نزدیک فضائی جنگ کا سب سے دلچسپ حصہ ہیں۔ سوچیں ذرا، ایک پائلٹ اپنے طیارے میں بیٹھا ہے اور وہ کئی سو کلومیٹر دور موجود دشمن کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے، بغیر اسے دیکھے!
یہ تو کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے پہلی بار AMRAAM میزائل کے بارے میں سنا تھا تو میں حیران رہ گیا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ یہ میزائل اپنی ہائی رینج اور “فائر اینڈ فارگیٹ” صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہیں، جس کا مطلب ہے کہ پائلٹ ایک بار ہدف پر فائر کرنے کے بعد فوراً وہاں سے ہٹ سکتا ہے جبکہ میزائل خود ہی اپنے ہدف کا پیچھا کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی ایسے جدید AMRAAM میزائل موجود ہیں جو ایف 16 طیاروں پر نصب کیے جاتے ہیں اور فروری 2019 میں پاک فضائیہ کے آپریشن “سوِفٹ ریٹارٹ” کے دوران انہی میزائلوں سے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے گئے تھے، جو ہماری فضائیہ کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس طرح کے میزائل دشمن کو ہماری فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بیونڈ ویژول رینج میزائل (BVR) کی اہمیت
بیونڈ ویژول رینج (BVR) میزائل کا مطلب ہے ایسے میزائل جو نظر کی حد سے باہر ہدف کو نشانہ بنا سکیں۔ یہ فضائی جنگوں کا رخ بدل چکے ہیں۔ ان کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کہ یہ پائلٹ کو ایک بہت بڑا تاکتیکی فائدہ دیتے ہیں۔ میں نے بہت سے ماہرین کو یہ کہتے سنا ہے کہ جدید فضائی جنگ میں جو ملک BVR صلاحیت میں بہتر ہوگا، وہی فضائی برتری حاصل کرے گا۔ روایتی فضائی جنگوں میں طیارے ایک دوسرے کے قریب آکر لڑتے تھے، لیکن اب BVR میزائل کی بدولت پائلٹ دشمن کو دیکھے بغیر ہی اس کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ یہ جدید ترین ریڈار سسٹم اور ڈیٹا لنکس کا استعمال کرتے ہیں تاکہ میزائل کو ہدف تک رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو یہ ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی فضائیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ سے دشمن طیاروں کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روکنا ممکن ہو جاتا ہے اور پائلٹ کی جان کو بھی کم خطرہ ہوتا ہے۔
فعال ریڈار ہومنگ سسٹم کا کردار
فعال ریڈار ہومنگ (Active Radar Homing) ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو BVR میزائلوں کو مزید مہلک بناتی ہے۔ اس میں میزائل خود اپنا ریڈار رکھتا ہے جو ہدف کو ٹریک کرتا ہے۔ یعنی، ایک بار میزائل فائر ہونے کے بعد اسے طیارے سے مزید گائیڈنس کی ضرورت نہیں رہتی۔ مجھے یاد ہے کہ جب یہ ٹیکنالوجی پہلی بار متعارف ہوئی تھی تو اسے ایک گیم چینجر قرار دیا گیا تھا۔ یہ نظام میزائل کو آزادی دیتا ہے کہ وہ ہدف تک خود پہنچے، جس سے دشمن کے لیے اسے دھوکہ دینا یا جام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بھارت نے بھی اپنے سپرسونک کروز میزائلوں کی درستگی کو بہتر بنانے کے لیے ایکٹو ریڈار سیکر کا استعمال کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میزائل کو آخری لمحات میں بھی اپنی سمت اور رفتار کو درست رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح کے میزائل انتہائی درستگی سے اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں اور دشمن کے لیے بچ نکلنا ناممکن بنا دیتے ہیں۔ یہ واقعی ایک کمال کی ٹیکنالوجی ہے۔
مختصر فاصلے کے فضائی میزائل: قریبی جنگ کے شاہکار
جب بات قریبی فضائی جنگ یا ڈاگ فائٹ کی آتی ہے تو مختصر فاصلے کے فضائی میزائل (Short-Range Air-to-Air Missiles) اپنی اہمیت دکھاتے ہیں۔ یہ میزائل بیونڈ ویژول رینج میزائلوں جتنی دور تک تو نہیں جاتے لیکن جب دشمن طیارہ قریب آ جائے تو یہ انتہائی تیزی اور پھرتی سے حملہ کرتے ہیں۔ مجھے تو ان کی چالاکیاں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر انفراریڈ گائیڈنس سسٹم پر کام کرتے ہیں، یعنی دشمن کے طیارے کے انجن سے نکلنے والی حرارت کا پیچھا کرتے ہیں۔ ان میزائلوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی بہترین مینیوورایبلٹی ہے، یعنی یہ انتہائی تیزی سے مڑ سکتے ہیں اور ہدف کا پیچھا کر سکتے ہیں، یہاں تک کہ وہ طیارے جو بہت زیادہ تیزی سے حرکت کر رہے ہوں۔
انفراریڈ ہومنگ کی جدیدیت
انفراریڈ ہومنگ سسٹم، جسے “حرارت کا پیچھا کرنے والا” بھی کہا جاتا ہے، نے وقت کے ساتھ بہت ترقی کی ہے۔ پرانے انفراریڈ میزائل صرف ہدف کے بالکل پیچھے سے فائر کیے جا سکتے تھے، لیکن آج کے جدید انفراریڈ میزائل ہدف کے ہر زاویے سے اسے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ کیسے پرانی ٹیکنالوجی کو اتنی جدت دی گئی ہے۔ ان میں امیجنگ انفراریڈ (IIR) سنسرز استعمال ہوتے ہیں جو ہدف کی ایک واضح حرارتی تصویر بناتے ہیں، جس سے یہ فرضی حرارتی ذرائع سے دھوکہ نہیں کھاتے اور ہدف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بناتے ہیں۔ یہ سسٹم پائلٹ کو ایک بہت بڑا فائدہ دیتا ہے کیونکہ اسے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے زیادہ سازگار پوزیشن میں آنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ میزائل انتہائی تیز رفتاری سے ہدف کا پیچھا کرتے ہیں اور اسے بچنے کا موقع نہیں دیتے۔
ہیل میٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے (HMD) کے فوائد
ہیل میٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے (HMD) ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو مختصر فاصلے کے فضائی میزائلوں کی کارکردگی کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ یہ پائلٹ کے ہیلمٹ پر نصب ایک ڈسپلے ہوتا ہے جو اسے یہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ جہاں بھی دیکھے، میزائل بھی اسی سمت میں لاک ہو جائے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ صرف اپنی نظروں سے دشمن کو نشانہ بنا رہے ہوں۔ میں نے جب اس کے بارے میں پڑھا تو مجھے لگا جیسے میں کسی ہالی ووڈ فلم کا منظر دیکھ رہا ہوں۔ یہ ٹیکنالوجی پائلٹ کو یہ اجازت دیتی ہے کہ وہ انتہائی سخت مینیوورز کے دوران بھی ہدف کو لاک رکھے۔ اس سے پائلٹ کو سر موڑ کر ہدف کو دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور وہ صرف اپنی نظروں کا استعمال کرتے ہوئے میزائل کو فائر کر سکتا ہے۔ یہ فضائی جنگ میں ایک بہت بڑا فائدہ ہے، خاص طور پر قریبی لڑائی میں جہاں سیکنڈز کے فیصلے فتح یا شکست کا تعین کرتے ہیں۔ اس سے پائلٹ کی ردعمل کی رفتار بہت بڑھ جاتی ہے اور وہ دشمن پر سبقت حاصل کر سکتا ہے۔
پانچویں نسل کے طیاروں اور فضائی میزائلوں کا امتزاج
پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے (Fifth-Generation Fighter Aircraft) صرف تیز رفتار جہاز نہیں بلکہ یہ ایک پورا سسٹم ہیں جو سٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید سنسرز، اور نیٹ ورک سینٹرک جنگی صلاحیتوں سے لیس ہوتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ سے ان طیاروں کی ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی بہت متاثر کرتی رہی ہے۔ ان طیاروں کے ساتھ مل کر فضائی میزائلوں کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ ان کا مقصد نہ صرف دشمن کے طیاروں کو مار گرانا ہوتا ہے بلکہ ان کی موجودگی کا پتا لگائے بغیر ان کو بے اثر کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان بھی اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پانچویں نسل کے سٹیلتھ لڑاکا طیاروں کو اپنے بیڑے میں شامل کرنے کی بنیاد رکھ چکا ہے، جس میں دوست ممالک کا تعاون بھی شامل ہے۔ چین نے پاکستان کو 40 پانچویں نسل کے J-35 سٹیلتھ طیارے فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
سٹیلتھ ٹیکنالوجی اور میزائلوں کا انضمام
سٹیلتھ ٹیکنالوجی طیارے کو ریڈار پر چھپانے میں مدد دیتی ہے، لیکن یہ کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ایک سٹیلتھ طیارہ اپنے میزائلوں کو کیسے فائر کرے تاکہ اس کی سٹیلتھ صلاحیت پر سمجھوتہ نہ ہو۔ میں نے دیکھا ہے کہ جدید سٹیلتھ طیارے اپنے میزائلوں کو اندرونی طور پر لے جاتے ہیں تاکہ ان کا ریڈار کراس سیکشن کم سے کم رہے۔ جب حملہ کرنا ہوتا ہے تو میزائل کو چند سیکنڈ کے لیے باہر نکالا جاتا ہے، فائر کیا جاتا ہے، اور پھر ہتھیاروں کا کمپارٹمنٹ بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے جس میں اعلیٰ درجے کی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، سٹیلتھ طیارے اپنے سنسرز کا استعمال کرتے ہوئے غیر فعال طریقے سے دشمن کے طیاروں کو ٹریک کرتے ہیں، جس سے وہ خود ریڈار پر نمودار ہوئے بغیر حملہ کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جو جنگ کا نقشہ ہی بدل سکتی ہے۔
نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر میں میزائلوں کا کردار
نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر کا مطلب ہے کہ تمام جنگی اثاثے ایک مشترکہ نیٹ ورک کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ فضائی میزائل بھی اس نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مجھے یہ تصور بہت دلچسپ لگتا ہے کہ کیسے ایک طیارہ دوسرے طیارے سے، یا زمینی ریڈار سے ہدف کی معلومات حاصل کر کے ایک میزائل کو فائر کر سکتا ہے۔ اس سے میزائل کی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک سٹیلتھ طیارہ دشمن کو دیکھے بغیر بھی اس پر میزائل فائر کر سکتا ہے کیونکہ اسے دوسرے طیارے یا ڈرون سے ہدف کی معلومات مل رہی ہوتی ہے۔ یہ نیٹ ورک سینٹرک نقطہ نظر فضائی جنگ میں ایک بہت بڑا فائدہ فراہم کرتا ہے کیونکہ یہ فوج کو ایک مربوط طریقے سے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے اور دشمن کو کسی بھی زاویے سے حیران کر سکتا ہے۔
ڈرونز اور فضائی میزائل: مستقبل کی جنگ کا منظرنامہ
ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال اور فضائی دفاعی نظام ان دنوں ہر جگہ خبروں میں ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں بہت حد تک ڈرونز کے ذریعے ہی لڑی جائیں گی۔ یہ بغیر پائلٹ کے طیارے جو پہلے صرف جاسوسی کے لیے استعمال ہوتے تھے، اب فضائی حملوں اور فضائی جنگ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان نے بھی اپنی فضائیہ میں مزید ڈرونز حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اپنے جدید طیاروں کو خطرے میں ڈالنے سے بچا سکے۔ ایران نے بھی جدید جنگی ڈرون طیاروں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس میں “کرار” جیسے جیٹ ڈرون شامل ہیں جو فضائی میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈرون سے فائر کیے جانے والے فضائی میزائل
اب ڈرونز سے بھی فضائی میزائل فائر کیے جا رہے ہیں، جو ایک نئی قسم کی جنگ کو جنم دے رہے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی ہماری افواج کو کم خطرے کے ساتھ زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔ یہ ڈرونز چھوٹے اور زیادہ چست ہوتے ہیں، جس سے انہیں دشمن کے ریڈار سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ ترکیہ نے حال ہی میں اپنے کامبیٹ ڈرون “بائراکٹر کجیلیما” کے ذریعے ایک سمیولیٹڈ ٹیسٹ میں امریکی ایف-16 جنگی طیارے کو کامیابی کے ساتھ لاک کر کے ورچوئلی مار گرایا، جو کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی غیر معمولی کامیابی ہے۔ یہ ڈرونز اپنے ساتھ چھوٹے فضائی میزائل لے جاتے ہیں جو انہیں دوسرے ڈرونز یا حتیٰ کہ انسان بردار طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ اس سے فضائی جنگ کا انداز مکمل طور پر تبدیل ہو رہا ہے اور ہمیں نئے طریقوں سے فضائی دفاع کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔
ڈرون حملوں سے فضائی دفاع
جہاں ڈرونز کی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں، وہیں ان سے دفاع کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ماضی میں ڈرون حملوں سے بچنے کے لیے بڑے اور مہنگے دفاعی نظام استعمال ہوتے تھے، لیکن اب چھوٹے اور زیادہ موثر نظام تیار کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس بھی فضائی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے LY-80، Spada-2000 اور جدید ترین HQ-9 جیسے نظام موجود ہیں، لیکن براہموس جیسے سپرسونک کروز میزائلوں کا مقابلہ کرنا ایک چیلنج ہے۔ اسرائیل نے بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرانے کے لیے ایک کثیر الجہتی فضائی دفاعی نظام تیار کیا ہے۔ اس میں “ڈیوڈ سلنگ” جیسے درمیانی فاصلے کے اور “آئرن ڈوم” جیسے مختصر فاصلے کے نظام شامل ہیں۔ ان دفاعی نظاموں کا مقصد ڈرونز اور میزائلوں کو ہماری فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روکنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں ڈرون سے دفاع کے لیے مزید جدید اور سستے طریقے سامنے آئیں گے۔
| میزائل کی قسم | اہم خصوصیات | استعمال |
|---|---|---|
| طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل (BVR) | فعال ریڈار ہومنگ، زیادہ رینج (100 کلومیٹر سے زائد)، فائر اینڈ فارگیٹ | دشمن کے طیاروں کو دور سے نشانہ بنانا، فضائی برتری حاصل کرنا |
| مختصر فاصلے کے میزائل (WVR) | انفراریڈ ہومنگ، اعلیٰ مینیوورایبلٹی، ہیل میٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے (HMD) سے انضمام | قریبی فضائی جنگ (ڈاگ فائٹ) میں دشمن کو نشانہ بنانا |
| سٹیلتھ طیاروں کے میزائل | اندرونی طور پر نصب، کم ریڈار کراس سیکشن، غیر فعال ٹریکنگ | دشمن کے فضائی دفاع کو چکمہ دے کر حملہ کرنا |
| ڈرون سے فائر کیے جانے والے میزائل | کم سائز، چست، کم قیمت، خاص اہداف کے لیے | دشمن کے ڈرونز اور چھوٹے طیاروں کو نشانہ بنانا، نگرانی کے ساتھ حملہ |
ہائپرسونک اور ڈرون خطرات سے نمٹنا: آگے کی سوچ
آج کل دفاعی میدان میں سب سے زیادہ چرچا ہائپرسونک ہتھیاروں اور جدید ڈرونز کا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ مستقبل کی جنگ کا سب سے بڑا چیلنج بننے والے ہیں۔ ہائپرسونک میزائل آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز سفر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایران کے پاس بھی الفتح جیسے جدید ہائپرسونک میزائل ہیں جو تقریباً 1400 کلومیٹر رینج رکھتے ہیں اور آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح، ڈرونز بھی اب محض جاسوسی کے لیے نہیں بلکہ حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمیں روایتی سوچ سے ہٹ کر نئے اور جدید حل تلاش کرنے ہوں گے۔
ہائپرسونک میزائلوں کا دفاعی چیلنج
ہائپرسونک میزائلوں سے دفاع ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کے حل تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے پہلی بار ان کی رفتار کے بارے میں پڑھا تھا تو مجھے یقین نہیں آیا تھا کہ کوئی چیز اتنی تیزی سے کیسے حرکت کر سکتی ہے۔ یہ میزائل اپنی انتہائی تیز رفتاری اور اپنی پرواز کے دوران راستے میں تبدیلی کی صلاحیت کی وجہ سے موجودہ دفاعی نظاموں کو چکمہ دے سکتے ہیں۔ ایسے میزائلوں کو ٹریک کرنا اور انہیں مار گرانا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس ردعمل کا وقت بہت کم ہوتا ہے۔ اس کے لیے نئے قسم کے سنسرز، ریڈار سسٹم، اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی ضرورت ہے جو انہیں آسمان میں ہی روک سکیں۔ امریکہ بھی ہائپرسونک میزائل بنانے کی دوڑ میں شامل ہے اور 2023 تک قابل تعینات ہائپرسونک صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
ڈرون وارفیئر میں فضائی دفاع کی نئی راہیں
ڈرون وارفیئر کا میدان بہت تیزی سے بدل رہا ہے، اور اس میں فضائی دفاع کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ڈرون سے دفاع کے لیے ہمیں خود بھی ڈرونز کا استعمال کرنا پڑے گا۔ اس میں “کاؤنٹر ڈرون” سسٹم شامل ہیں جو چھوٹے ڈرونز کو ٹریک کرتے ہیں اور انہیں نیٹ یا لیزر سے مار گراتے ہیں۔ بڑے اور زیادہ مہلک ڈرونز کے لیے روایتی فضائی دفاعی نظاموں کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان نے بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے HQ-19 بیلسٹک میزائل دفاعی نظام خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جو بیلسٹک میزائلوں سے دفاع کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ اس کے علاوہ، الیکٹرانک وارفیئر بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، جو دشمن کے ڈرونز کے کنٹرول سگنلز کو جام کر کے انہیں ناکارہ بنا دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں مسلسل تحقیق اور ترقی کی ضرورت ہے تاکہ ہم ہر قسم کے ڈرون خطرات سے نمٹ سکیں۔
فضائی میزائلوں میں ذہانت: AI اور سنسرز کا انقلاب
آج کے دور میں فضائی میزائل صرف لوہے کے ٹکڑے نہیں رہے، بلکہ یہ ذہین ہتھیار بن چکے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید سنسرز نے اس میدان میں کس طرح انقلاب برپا کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میزائل کو ہدف کو پہچاننے، اس کی حرکت کا اندازہ لگانے، اور بہترین حملہ کرنے کے لیے خود فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی خبردار کیا ہے کہ مستقبل کی جنگیں مصنوعی ذہانت کے باعث نہایت خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے میزائل
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے میزائل وہ ہیں جو اپنے اندر موجود الگورتھم کی بدولت خود ہی ہدف کو ٹریک کرتے ہیں، راستے کا تعین کرتے ہیں، اور حملہ کرتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے AI فضائی جنگ کو مزید پیچیدہ اور موثر بنا رہا ہے۔ یہ میزائل ہدف کے رویے کو سمجھتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہیں، جس سے دشمن کے لیے ان سے بچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ملٹری آپریشنز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے فیصلہ سازی کی رفتار، قابلیت اور سٹریٹجک ڈیٹا کے فوائد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں فضائی دفاع کے نظام کو مزید مضبوط بنائے گی اور ہمیں دشمن کے کسی بھی فضائی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رکھے گی۔
جدید سنسرز اور ٹارگٹنگ سسٹم
جدید سنسرز اور ٹارگٹنگ سسٹم فضائی میزائلوں کی آنکھیں اور دماغ ہیں۔ ان میں ریڈار، انفراریڈ، آپٹیکل، اور الیکٹرانک سنسرز شامل ہیں جو میزائل کو ہدف کی بہترین تصویر فراہم کرتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ سمجھنے میں بہت وقت لگا کہ یہ سنسرز کیسے ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور اتنی درست معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ملٹی موڈ سنسرز ایک سے زیادہ سنسنگ طریقوں کا استعمال کرتے ہیں، جس سے میزائل کی درستگی اور ہدف کو پہچاننے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک میزائل بیک وقت ریڈار اور انفراریڈ کا استعمال کر سکتا ہے تاکہ ہدف کو زیادہ مؤثر طریقے سے ٹریک کرے۔ یہ سنسرز میزائل کو ہر قسم کے ماحول اور ہر قسم کے ہدف کو نشانہ بنانے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں مسلسل جدت آ رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے اور بہتر سنسرز متعارف ہو رہے ہیں۔
مستقبل کی فضائی جنگ: نئے رجحانات اور چیلنجز
مستقبل کی فضائی جنگ کا منظرنامہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے اور ہمیں نئے رجحانات اور چیلنجز کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ بہت دلچسپ ہونے والا ہے۔ ہائپرسونک ہتھیار، مصنوعی ذہانت، ڈرونز، اور سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا امتزاج جنگ کو ایک نئی سطح پر لے جا رہا ہے۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کی بات نہیں بلکہ حکمت عملیوں اور انسانی عنصر کی بھی بات ہے۔
فضائی میزائل ٹیکنالوجی میں ابھرتے ہوئے رجحانات
فضائی میزائل ٹیکنالوجی میں کئی ابھرتے ہوئے رجحانات ہیں جو مستقبل میں فضائی جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ کیسے ہمارے سائنسدان اور انجینئرز اس میدان میں دن رات کام کر رہے ہیں۔ اس میں ہائپرسونک فضائی میزائل شامل ہیں جو انتہائی تیز رفتاری سے سفر کر کے دشمن کے دفاع کو چکمہ دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، “سوورم” (Swarm) ڈرونز، یعنی چھوٹے ڈرونز کا ایک پورا گروہ جو ایک ساتھ حملہ کرتا ہے، بھی ایک نیا خطرہ ہے۔ ان سے نمٹنے کے لیے ہمیں نئے قسم کے فضائی میزائلوں اور دفاعی نظاموں کی ضرورت ہوگی۔ مزید برآں، لیزر ہتھیاروں کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے جو میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر سکتے ہیں۔
اخلاقی اور قانونی چیلنجز
فضائی میزائلوں اور AI کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اخلاقی اور قانونی چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت اہم بات ہے کہ ہم اس پر کھل کر بات کریں اور کوئی حل تلاش کریں۔ جب مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہتھیار خود ہی فیصلے کرنے لگیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حملے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ کیا یہ پائلٹ پر ہوگی، ہتھیار بنانے والے پر، یا پروگرامر پر؟ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اقوام متحدہ میں بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عسکریت پسندی کے بجائے امن و ترقی کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ یہ بہت اہم ہے کہ عالمی برادری اس پر ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرے تاکہ ان ہتھیاروں کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ مجھے یقین ہے کہ انسانیت مل کر ان چیلنجز کا سامنا کرے گی اور مستقبل کی جنگوں کو مزید محفوظ اور انسانی بنائے گی۔
گل کوماتمی
میرے پیارے قارئین! آج ہم نے فضائی میزائلوں کی ایک بہت ہی دلچسپ اور اہم دنیا کا سفر کیا۔ مجھے امید ہے کہ اس ساری گفتگو سے آپ نے نہ صرف بہت کچھ سیکھا ہوگا بلکہ ہماری افواج کی صلاحیتوں پر آپ کا فخر بھی بڑھا ہوگا۔ یہ محض ہتھیار نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کا ایک ایسا امتزاج ہیں جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ہمارے مستقبل کو محفوظ بناتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ سب جان کر بہت سکون ملتا ہے کہ ہمارے جوان اور سائنسدان دن رات ایسی جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔
الارڈو مین سلسلو ولی معلومات
1. فضائی میزائل مختلف اقسام کے ہوتے ہیں، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے (BVR) اور مختصر فاصلے کے (WVR) میزائل شامل ہیں۔ ہر قسم کا میزائل ایک خاص قسم کی فضائی جنگی صورتحال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
2. جدید میزائلوں میں مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید سنسرز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جو انہیں زیادہ ذہین اور مہلک بناتا ہے، اور یہ ہدف کو خود پہچان کر حملہ کر سکتے ہیں۔
3. سٹیلتھ ٹیکنالوجی والے طیارے اپنے میزائلوں کو اندرونی طور پر رکھتے ہیں تاکہ ریڈار پر ان کا پتہ نہ چل سکے۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ انجینئرنگ کا کمال ہے۔
4. ہیل میٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے (HMD) جیسی ٹیکنالوجی پائلٹ کو اپنی نظروں سے ہدف کو لاک کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، جس سے قریبی فضائی جنگ میں بہت بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
5. ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے فضائی جنگ کو نئی جہت دی ہے۔ اب ڈرون سے فائر کیے جانے والے میزائل اور ڈرونز سے دفاع کے لیے نئے سسٹمز تیار کیے جا رہے ہیں، جو مستقبل کی جنگ کا حصہ ہوں گے۔
اہم نکات کا خلاصہ
آج کی ہماری اس گفتگو کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ فضائی میزائلوں کی ٹیکنالوجی مسلسل ارتقائی مراحل سے گزر رہی ہے۔ ابتدائی سادہ میزائلوں سے لے کر آج کے جدید BVR اور AI سے لیس میزائلوں تک، ہر قدم پر جدت اور ترقی نظر آتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کیسے یہ میزائل مختلف صورتحال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، چاہے وہ دور سے دشمن کو نشانہ بنانا ہو یا قریبی فضائی جنگ میں برتری حاصل کرنا۔ پانچویں نسل کے طیاروں اور ڈرونز کے ساتھ ان کا امتزاج مستقبل کی فضائی جنگ کا نقشہ بدل رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ساری ٹیکنالوجی ہماری قومی سلامتی کی ضامن ہے اور ہمیں یہ جان کر خوشی ہونی چاہیے کہ ہماری افواج ان جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ ہمیں نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو سمجھنا چاہیے بلکہ ان پر فخر بھی کرنا چاہیے۔ یہ ہماری زمین، ہمارے آسمان، اور ہمارے مستقبل کے حقیقی محافظ ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: آج کے جدید فضائی میزائل کس طرح کام کرتے ہیں اور ان میں کون سی نئی ٹیکنالوجیز استعمال کی جا رہی ہیں؟
ج: جب ہم جدید فضائی میزائلوں کی بات کرتے ہیں تو میرے ذہن میں فوراً وہ پیچیدہ ٹیکنالوجی آتی ہے جو انہیں محض ایک دھات کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک سمارٹ ہتھیار بناتی ہے۔ آج کے میزائلوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور مشین لرننگ کا بھرپور استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ میزائل خود سے حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں، راستے میں تبدیلی کر سکتے ہیں اور ہدف کو زیادہ مؤثر طریقے سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ میں نے خود یہ تحقیق کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ ان میں جدید سینسرز لگے ہوتے ہیں، جن میں ملٹی موڈ ریڈار (Multi-mode Radar) اور انفراریڈ (Infrared) سینسرز شامل ہیں، جو انہیں ہر قسم کے موسمی حالات اور دن رات میں بھی اہداف کو لاک کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔
دراصل، اب یہ صرف “لگاؤ اور بھول جاؤ” (Fire and Forget) سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفاعی ماہر نے بتایا تھا کہ اب ان میں ڈیٹا لنک کی صلاحیت بھی ہوتی ہے، یعنی میزائل لانچ ہونے کے بعد بھی اسے طیارے یا کسی اور پلیٹ فارم سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے اس کی درستگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، سٹیلتھ ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز (ECM) بھی ان کا حصہ ہیں تاکہ یہ دشمن کے ریڈار سے بچ سکیں اور ان کی مداخلت کو ناکام بنا سکیں۔ یہ سب دیکھ کر مجھے واقعی لگتا ہے کہ ہم ایک بالکل نئی جنگی ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
س: فضائی دفاع میں BVR (Beyond Visual Range) اور WVR (Within Visual Range) میزائلوں میں کیا بنیادی فرق ہے اور ان کی فضائی جنگ میں کیا اہمیت ہے؟
ج: جب فضائی جنگی حکمت عملی کی بات آتی ہے، تو BVR اور WVR میزائلوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ میرے نزدیک، یہ دونوں اقسام کے میزائل فضائی جنگ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ BVR میزائل، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ایسے میزائل ہوتے ہیں جو دشمن کے طیارے کو اس وقت بھی نشانہ بنا سکتے ہیں جب وہ پائلٹ کی نظروں سے اوجھل ہو۔ یعنی یہ بہت زیادہ فاصلے سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ ان میں عام طور پر ریڈار گائیڈنس سسٹم ہوتا ہے جو ہدف کو دور سے ہی ٹریک کر لیتا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر محسوس کیا ہے کہ ان کا مقصد دشمن کے طیارے کو ہماری فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کرنا ہوتا ہے، اس طرح ہمارے پائلٹس کو ایک بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، WVR میزائل یا شارٹ رینج میزائل، جیسا کہ پائلٹ حضرات انہیں “ڈاگ فائٹ” (Dogfight) میں استعمال کرتے ہیں، تب کام آتے ہیں جب دشمن کا طیارہ قریب آ چکا ہو اور پائلٹ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔ یہ عموماً انفراریڈ (IR) سینسرز کا استعمال کرتے ہیں جو ہدف کی گرمی کو ٹریک کرتے ہیں۔ میرے تجربے میں، یہ میزائل انتہائی پھرتیلے ہوتے ہیں اور تیزی سے مڑنے اور اہداف کو تعاقب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ایک BVR حملہ ناکام ہو جائے یا دشمن بہت قریب آ جائے، تو WVR میزائل ہی ہمارے پائلٹ کی آخری امید ہوتے ہیں۔ مختصراً، BVR ایک دور کی چال ہے جبکہ WVR قریبی لڑائی کا ماہر ہے۔
س: مستقبل میں فضائی میزائلوں کو کن نئے خطرات کا سامنا ہے، جیسے ڈرونز اور ہائپرسونک ہتھیار، اور ان سے نمٹنے کے لیے کیا تیاریاں کی جا رہی ہیں؟
ج: مستقبل کے فضائی خطرات کے بارے میں سوچتے ہوئے میرے ذہن میں فوراً ڈرونز اور ہائپرسونک ہتھیاروں کا خیال آتا ہے۔ یہ ایک بالکل نئی طرح کی جنگ ہے جو آنے والے وقتوں میں ہمارے فضائی دفاع کے لیے بہت بڑے چیلنجز کھڑے کرے گی۔ ڈرونز، خاص طور پر چھوٹے اور swarm drones (چھوٹے ڈرونز کا ایک بڑا گروپ)، روایتی میزائلوں کے لیے بہت مشکل ہدف ہیں۔ ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور یہ کم اونچائی پر پرواز کرتے ہیں جس کی وجہ سے ریڈار پر ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں نے کئی دفاعی ماہرین سے سنا ہے کہ ان سے نمٹنے کے لیے لیزر اور ڈائریکٹڈ انرجی ویپن (Directed Energy Weapons) جیسی نئی ٹیکنالوجیز پر کام ہو رہا ہے، جو ایک وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنا سکیں اور ان کی لاگت بھی کم ہو۔
دوسری طرف، ہائپرسونک ہتھیار، جو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہیں، ایک اور بڑا چیلنج ہیں۔ ان کی رفتار اور تدبیر (maneuverability) اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ موجودہ دفاعی نظام انہیں روکنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ حال ہی میں میں نے ایک رپورٹ پڑھی تھی کہ دنیا بھر کی حکومتیں ہائپرسونک انٹرسیپٹرز اور اسپیس بیسڈ سینسرز پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ ان خطرناک ہتھیاروں کا پہلے پتہ لگایا جا سکے اور پھر انہیں مؤثر طریقے سے تباہ کیا جا سکے۔ میری نظر میں، یہ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مکمل نئی دفاعی سوچ کا مطالبہ ہے جہاں ہم بہت تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ ایک دلچسپ اور تشویشناک دور ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ انسانی ذہانت ان چیلنجز کا مقابلہ بھی کر لے گی۔




